An-Naml 27:7
Verse 7 of 93
اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ ۟
ترجمہ
(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ”مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو۔“
English translation
(Recount to them) when Moses said to his family: "I perceive something like fire: soon will I bring to you some information from there, or I will bring you a burning brand that you may warm yourselves."
تفہیم القرآن — حواشی
- 8
یہ اُس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مَدْیَن میں آٹھ دس سال گزارنے ک بعد اپنے اہل وعیان کو ساتھ لے کر کوئی ٹھکانہ تلاش کرنے جا رہے تھے۔ مدین کا علاقہ خلیج عَقَبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سوا حل پر واقع تھا(ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جدل سوم الشُعراء، حاشیہ 115)۔ وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اُس مقام پر پہنچے جواب کوہِ سینا اور جبلِ موسیٰ کہلاتا ہے اور نزولِ قرآن کے زمانہ میں طُور کے نام سے مشہور تھا۔ اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔
- 9
فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا۔ اور حضڑت موسیٰ علیہ السلام ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جا کر معلوم کرتا ہوں یہ کونسی بستی ہے جہاں آگجل رہی ہے ، آگے کدھر کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم ازکم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گاکہ تم لوگ آگ جلا کر کچھ گرمی حاصل کر سکو۔ یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی، کوہ ِ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قُسطَنِطین نے 3۶5 ء کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اُس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کروایا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے دو سو برس بعد قیصر حَسٹِینین نے یہاں ایک دَیر ( Monastery ) تعمیر کروایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کر لیا۔ یہ دیر اور کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church ) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے ۔ میں نے جنوری 19۶۰ء میں اس مقام کی زیارت ی ہے ۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔
