An-Naml 27:25
Verse 25 of 93
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۟
ترجمہ
کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔
English translation
that they would prostrate themselves before Allah Who brings to light all that is hidden in the heavens and the earth and knows all that you conceal and all that you reveal.
تفہیم القرآن — حواشی
- 33
یعنی جوہر آن اُن چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں پوشیدہ تھیں۔ زمین کے پیٹ سے ہر آن بے شمار نباتات نکال رہا ہے اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے ۔ عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لا رہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
- 34
یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں۔ اس پر سب کچھ عیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان دوصفات کو بطورِ نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آ سکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دبکتا ہوا کُرہ ، جو بیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، بلکہ صرف وہ ہستی اس کا ستحقاق رکھتی ہے جو علیم و خبیر ہے اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لا رہی ہے۔
