An-Naml 27:24
Verse 24 of 93
وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَ ۟ۙ
ترجمہ
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے“۔۔۔۔شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے
English translation
I found that she and her people prostrate themselves before the sun rather than Allah." Satan has made their deeds appear attractive to them and has, thus, debarred them from the Right Path so they do not find true guidance
تفہیم القرآن — حواشی
- 30
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی۔ عرب کے قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورثِ اعلیٰ کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبدِ شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہُدہُد جب حضرت سلیمان کا خط لے کر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جا رہی تھی۔ ہُدہُد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔
- 31
اندازِ کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیر اگر اف تک کی عبارت ہُدہُد کے کلام کا جُز نہیں ہے بلکہ ”سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے“ پر اس کی بات ختم ہوگئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے ۔ اس قیاس کو جو یز تقویت دیتی ہے وہ یہ فقرہ ہے وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ،”اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو“۔ان الفاظ سے یہ گمان غالب ہوتا ہے کہ متکلم ہُدہُد اور مخاطب حضرت سلیمانؑ اور ان کے اہلِ دربار نہیں ہیں، بلکہ متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب مشرکین ِ مکہ ہیں جن کو نصیحت کرنے ہی کے لیے یہ قصہ سنا یا جا رہا ہے۔ مفسیرن میں سے علامہ آلوسی، صاحبِ روح المعانی بھی اسی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔
- 32
یعنی دنیا کی دولت کمانے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنا نے کے جس کام میں وہ منہمک تھے، شیطان نے اُن کو سُجھا دیا کہ بس یہی عقل و فکر کا ایک مصرف اور قوائے ذہنی و جسمانی کا ایک استعمال ہے ، اِس سے زیادہ کسی چیز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی حاجت ہی نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ اِس فکر میں پڑو کہ اس ظاہر حیاتِ دنیا کے پیچھے حقیقتِ واقعیہ کیا ہے اور تمہارے مذہب، اخلاق، تہذیب اور نظامِ حیات کی بنیاد یں اُس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں یا سراسر اس کے خلاف جا رہی ہیں۔ شیطان نے ان کو مطمئن کر دیا کہ جب تم دنیا میں دولت اور طاقت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہو تو پھر تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی کی اہے کہ ہمارے یہ عقائد اور فلسفے اور نظر یے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ان کے ٹھیک ہونے کی تو یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تم مزے سے دولت کما رہے ہو اور عیش اُڑا رہے ہو۔
