Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Naml 27:19

Verse 19 of 93

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ ۟

ترجمہ

سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا۔۔۔۔”اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔“

English translation

Smiling at the ant's utterance, Solomon burst into laughter and said: "My Lord! Hold me under (Your) control that I may render thanks for the favour which You have bestowed on me and on my parents, and that I may act righteously in a manner that would please You. Include me, out of Your Mercy, among Your righteous servants."

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 25

    اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ ۔ وزع کے اصل معنی عرب  زبان میں روکنے کے ہیں۔ اس موقع پر حضڑت سلیمانؑ کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ ( مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر  میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہو جاؤں تو حدِّ بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں۔ اس لیے اے میرے پر وردگار، تو مجھے قابو میں رکھ تا کہ میں کافرِ نعمت بننے کے بجائے شکرِ نعمت پر قائم رہوں۔

  2. 26

    صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد غالباً یہ ہے کہ آخرت میں میراانجام صالح بندوں کے ساتھ ہو اور  میں ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں ۔ اس لیے کہ آدمی جب عمل صالح کر ے گا تو صالح تو وہ آپ سے آپ  ہوگا ہی، البتہ آخرت میں کسی کا جنت میں داخل ہونا محض اس کے عمل صالح کے بل بوتے پر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لن ید خل احد کم الجنۃ عملہ”تم میں سے کسی کو بی محض اس کا عمل جنت میں نہیں  پہنچا دے گا“۔غرض کیا گیا کہ ولا انت یا رسُول اللہ”کیا حضورؐ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے“؟فرمایا ولا انا الا ان یتغمد فی اللہ تعالیٰ برحمتہ” ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے“۔           حضرت سلیمانؑ کی یہ دعا اس موقع پر بالک بے محل ہو جاتی ہے اگر النمل سے مراد انسانوں کا کوئی قبیلہ لے لیا جائے اور نملۃ کے معنی قبیلہ نمل کے ایک فرد کے لے لیے جائیں ۔ ایک بادشاہ کے لشکر جرار سے ڈر کر کسی انسانی قبیلہ کے ایک فرد کا اپنے قبیلے کو خطرہ سے خبر دار کرنا آخر کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ وہ جلیل القدر بادشاہ اس پر خدا سے یہ دعا کرنے لگے۔ البتہ ایک شخص کو اتنی زبردست قوتِ ادراک حاصل ہونا کہ وہ دور سے ایک چیونٹی کی آواز بھی سُن لے اور اس کا مطلب بھی سمجھ جائے ضرور ایسی بات ہے جس سے آدمی کے غرورِ نفس میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو۔ اسی صورت میں حضرت سلیمانؑ کی  یہ دعا بر محل ہو سکتی ہے۔

An-Naml 27:19 — Translation & Tafsir | Read Maududi