An-Naml 27:15
Verse 15 of 93
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا ۚ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟
ترجمہ
(دُوسری طرف)ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیااور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔
English translation
(On the other hand), We granted knowledge to David and Solomon and they said: "All praise be to Allah Who has exalted us above many of His believing servants!"
تفہیم القرآن — حواشی
- 18
یعنی حقیقت کا علم۔ اِ س بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پا س اپنا کچھ بھی نہیں ہے ، جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے ، او ر اُس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہین مالک حقیق کے حضور جواب دہی کرنے ہے ۔ یہ علم اُس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا۔ اُس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی اس کا نمونہ اوپر مذکور ہوا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتا ہے ۔ بادشاہی، دولت، حشمت، طاقت ،دونوں طرف یکساں ہے ۔ فرعون کو بھی یہ ملی تھی ، اور داؤد و سلیمان علیہما السلام کو بھی۔ لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کر دیا۔
- 19
یعنی دوسرے مومن بندے بھی ایسے موجود تھے جن کو خلافت عطا کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ ہماری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس مملکت کی فرمانروائی کے لیے منتخب فرمایا۔
