Al-Furqan 25:19
Verse 19 of 77
فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا ۚ وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا ۟
ترجمہ
یُوں جھُٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبُود)تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ، پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
English translation
Thus will those deities give the lie to all what you now say, and you will not be able to avert your doom, nor obtain any succour. We shall cause whoever of you commits wrong to taste an enormous chastisement.
تفہیم القرآن — حواشی
- 27
یعنی تمہارا یہ مذہب ، جس کو تم حق سمجھے بیٹھے ہو، بالکل نے اصل ثابت ہو گا، اور تمہارے وہ معبود جن پر تمہیں بھروسہ ہے کہ یہ خدا کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ، اُلٹے تم کو خطا کار ٹھیرا کر بری الذمہ ہو جائیں گے ۔ تم نے جو کچھ بھی اپنے معبودوں کو قرار دے رکھا ہے ، بطور خود ہی قرار دے رکھا ہے ۔ ان میں سے کسی نے بھی تم سے یہ نہ کہا تھا کہ ہمیں یہ کچھ مانو، اور اس طرح ہماری نذر و نیاز کیا کرو، اور ہم خدا کے ہاں تمہاری سفارش کرنے کا ذمہ لیتے ہیں ۔ ایسا کوئی قول کسی فرشتے یا کسی بزرگ کی طرف سے نہ یہاں تمہارے پاس موجود ہے ، نہ قیامت میں تم اسے ثابت کر سکو گے ، بلکہ وہ سب کے سب خود تمہاری آنکھوں کے سامنے ان باتوں کی تردید کریں گے اور تم اپنے کانوں سے ان کی تردید سن لو گے ۔
- 28
یہاں ظلم سے مراد حقیقت اور صداقت پر ظلم ہے، یعنی کفر و شرک۔ سیاق و سباق خود ظاہر کررہا ہے کہ نبی کو نہ ماننے والے اور خدا کے بجائے دوسروں کو معبود بنا بیٹھنے والے اور آخرت کا انکار کرنے والے "ظلم" کے مرتکب قرار دیے جارہے ہیں۔
