An-Nur 24:48
Verse 48 of 64
وَاِذَا دُعُوْۤا اِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۟
ترجمہ
جب ان کو بُلایا جاتا ہے اللہ اور رسُول کی طرف، تاکہ رسُول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کَترا جاتا ہے۔
English translation
When they are called to Allah and His Messenger that he (that is, the Messenger) may judge (the disputes) among them, a faction of them turns away.
تفہیم القرآن — حواشی
- 78
یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کا حکم اللہ کا حکم ہے۔ رسول کی طرف بلایا جانا صرف رسول ہی کی طرف بلایا جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول دونوں کی طرف بلایا جانا ہے۔ نیز اس آیت اور اوپر والی آیت سے یہ بات بلا کسی اشتباہ کے بالکل واضح ہو جاتی ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر ایمان کا دعویٰ بے معنی ہے اور اطاعت خدا و رسول کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اس قانون کے آگے جھک جائیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا ہے۔ یہ طرز عمل اگر وہ اختیار نہیں کرتے تو ان کا دعویٰ ایمان ایک منافقانہ دعویٰ ہے۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نساء آیات 59۔ 61۔ مع حواشی 89 تا 92 )۔
- 79
واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی ہی کے لیے نہ تھا ، بلکہ آپ کے بعد جو بھی اسلامی حکومت کے منصب قضا پر ہو اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلے کرے اس کی عدالت کا سمن در اصل اللہ اور رسول کی عدالت کا سمن ہے ، اور اس سے منہ موڑنے والا در حقیقت اس سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول سے منہ موڑنے والا ہے۔ اس مضمون کی یہ تشریح خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے جسے حسن بصری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ : من دُعِیَ الیٰ حاکم من حکام المسلمین فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ ’’ جو شخص مسلمانوں کے حکام عدالت میں سے کسی حاکم کی طرف بلایا جائے اور وہ حاضر نہ ہو تو وہ ظالم ہے۔ اس کا کوئی حق نہیں ہے ‘‘ (احکام القرآن جصاص ج 3 ، ص 405 )۔ بالفاظ دیگر ایسا شخص سزا کا بھی مستحق ہے ، اورت مزید براں اس کا بھی مستحق ہے کہ اسے برسر باطل فرض کر کے اس کے خلاف یک طرفہ فیصلہ دے دیا جائے۔
