Al-Mu'minun 23:99
Verse 99 of 118
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۟ۙ
ترجمہ
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے)یہاں تک کہ جب اِن میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ”اے میرے ربّ، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں
English translation
(They shall persist in their deeds) until when death comes to anyone of them he will say: "My Lord, send me back to the world
تفہیم القرآن — حواشی
- 92
اصل میں رَبِّ ارْجِعُوْنِ کے الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خطاب کر کے جمع کے صیغے میں درخواست کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ یہ تعظیم کے لیے ہو، جیسا کہ تمام زبانوں میں طریقہ ہے۔ اور دوسری وجہ بعض لوگوں نے یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ لفظ تکرارِ دُعا کا تصوّر دلانے کےلیے ہے، یعنی وہ اِرْجِعْنِیْ اِرْجِعْنِیْ (مجھے واپس بھیج دے، مجھے واپس بھیج دے) کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ رَبِّ کا خطاب اللہ تعالیٰ سے ہے اور ارْجِعُوْنِ کا خطاب اُن فرشتوں سے جو اس مجرم روح کو گرفتار کر کے لیے جا رہے ہوں گے ۔ یعنی بات یوں ہے : ”ہائے میرے ربّ ، مجھ کو واپس کر دو“۔
