Al-Mu'minun 23:91
Verse 91 of 118
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۟ۙ
ترجمہ
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے، اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں
English translation
Never did Allah take unto Himself any son, nor is there any god other than He. (Had there been any other gods) each god would have taken his creatures away with him, and each would have rushed to overpower the other. Glory be to Allah from all that they characterize Him with!
تفہیم القرآن — حواشی
- 87
یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ارشاد محض عیسائیت کی تردید میں ہے۔ نہیں ، مشرکین عرب بھی اپنے معبودوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے ، اور دنیا کے اکثر مشرکین اس گمراہی ہیں ان کے شریک حال رہے ہیں۔ چونکہ عیسائیوں کا عقیدۂ ”ابن اللہ“ زیادہ مشہور ہو گیا ہے ا س لیے بعض اکابر مفسرین تک کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ یہ آیت اسی کی تردید میں وارد ہوئی ہے۔ حالانکہ ابتدا سے روئے سخن کفارِ مکّہ کی طرف ہے اور آخر تک ساری تقریر کے مخاطب وہی ہیں۔ اس سیاق و سباق میں یکایک عیسائیوں کی طرف کلام کا رُخ پھر جانا بے معنی ہے۔ البتہ ضمنًا اس میں اُن تمام لوگوں کے عقائد کی تردید ہو گئی ہے جو خد ا سے اپنے معبودوں یا پیشواؤں کا نسب ملاتے ہیں، خواہ وہ عیسائی ہوں یا مشرکین ِ عرب یا کوئی اور۔
- 88
یعنی یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظامِ عالم کی بے شمار قوتوں اور بے حدو حساب چیزوں میں ، اَن گنت تاروں اور سیّاروں میں پا رہے ہو۔ نظام کی باقاعدگی اور اجزائے نظا م کی ہم آہنگی اقتدار کی مرکزیت و وحدت پر خود دلالتت کر رہی ہے۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہو تا تو اصحابِ اقتدار میں اختلاف رونما ہو نا یقینًا ناگزیر تھا۔ اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا، (آیت 22) ” اگر زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا“۔ اور یہی استدلال سُورۂ بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ لَوْ کَانَ مَعَہٗ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّا بْتَغَوْ ا اِلٰی ذِی الْعَرْ شِ سَبِیْلًا o (آیت 42) ”اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے ،جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو ضرور وہ مالکِ عرش کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کرتے“۔ ( تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جدل دوم ، بنی اسرائیل، حاشیہ نمبر 47۔ جلد سوم، الانبیاء ، حاشیہ نمبر 22)۔
