Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mu'minun 23:51

Verse 51 of 118

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۟ؕ

ترجمہ

اے پیغمبرو، کھاوٴ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خُوب جانتا ہوں

English translation

Messengers! Partake of the things that are clean, and act righteously. I know well all that you do.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 48

    پچھلے دو رکوعوں میں متعدد انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب  یٰٓاَ یُّھَا الرُّسُلُ کہہ کہ تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے  کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں یہ سارے پیغمبر یک جا مو جود تھے اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا ۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف  قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کی یہی ہدایت کی گئی تھی ، اور سب کے سب  اختلاف زمانہ ومقام کے باوجود ایک ہی حکم کے مخاطب تھے ۔ بعد کی آیت میں چونکہ تمام انبیاء کو ایک اُمّت ، ایک جماعت، ا یک گروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے طرزِ بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ  کھنچ جائے گا۔ گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جحمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دے جارہی ہے ۔ مگر اس طرزِ کلام کی لطافت اس دَور کے بعض کُند ذہن لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی اور وہ اس سے نہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ یہ خطاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف ہے اور اس سے حضور ؐ کے بعد بھی سلسلہ ٔنبوت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے ۔ تعجب ہے ، جو لوگ زبان و ادب کےذوقِ لطیف سے اس قدر کورے ہیں وہ قرآن کی تفسیر  کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔

  2. 49

    پاک چیزوں سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو بجائے خود بھی پاکیزہ ہوں ، اور پھر حلال طریقے سے بھی حاصل ہوں۔ طیبات کھانے کی ہدایت کر کے رہبانیت اور دنیا پرستی کے درمیان اسلام کی راہِ اعتدال کی طرف اشارہ کیا گیا۔ مسلمان نہ تو راہب کی طرح اپنے آپ کو پاکیزہ رزق سے محروم کرتا ہے، اور نہ دنیا پرست کی طرح حرام و حلال کی تمیز کے بغیر ہر چیز پر منہ مار دیتا ہے۔ عملِ صالح سے پہلے طیبات کھانے  کی ہدایت سے صاف اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ حرام خوری کے ساتھ عملِ صالح کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ صلاح کے لیے شرطِ اوّل یہ ہے کہ آدمی رزقِ حلال کھائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” لوگو،  اللہ خود پاک ہے اس لیے پاک ہی چیز کو پسند کرتا ہے“۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس کے بعد فرمایا   الرجل یطیل السفر اشعت اغبر  و مطعمہ حرام و مشربہ حرام  و ملبسہ حرام و غذی بالحرام یمدیدیہ الی السماء یا رب  یا رب فانی یستجاب الذالک۔ ”ایک شخس لمبا سفر کر کے غبار آلود و پراگندہ مُو آتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتا ہے، یارب ، یارب، مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام ، کپڑے اس کے حرام، اورجسم اس کا حرام کی روٹیوں سےپلا ہوا۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو“۔ (مسلم، ترمذی، احمد من حدیث ابی ہریرہ ؓ)۔

Al-Mu'minun 23:51 — Translation & Tafsir | Read Maududi