Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mu'minun 23:50

Verse 50 of 118

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّاٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ۟۠

ترجمہ

اور ابنِ مریمؑ  اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مُرتَفَع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔

English translation

And We made Mary's son, and his mother, a Sign, and We gave them refuge on a lofty ground, a peaceful site with springs flowing in it.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 46

    یہ نہیں فرمایا کہ ایک نشانی ابن مریم تھے اور ایک نشانی خود مریم۔ اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا۔ بلکہ فرمایا  یہ کہ وہ دونوں مل کر ایک نشانی بنائے گئے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہےکہ باپ کے بغری ابنِ مریمؑ کا پیدا ہونا ، اور مرد کی صحبت کے بغیر مریم ؑ کا حاملہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو ان دونوں کو ایک نشانی بناتا ہے۔ جو لوگ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش  ِ بے پدر کے منکر ہیں وہ ماں اور بیٹے کے ایک آیت ہونے کی کیا توجیہ کریں گے؟ (مزید تفصیل کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، آل عمران ، حواشی 44 – 53۔ النساء، حواشی 19۰ – 212 – 213۔ جلد سوم، مریم، حواشی 15 تا 22 ۔ الانبیاء ، حواشی 89 – 9۰)۔  یہاں دوباتیں اور بھی قابل توجہ ہیں ۔ اوّل یہ کہ حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ ٔ ماجدہ کا معاملہ جاہل انسانوں کی ایک دوسری کمزوری کی نشان دہی کرتا ہے۔ اوپر جن انبیاء کا ذکر تھا اُن پر تو ایمن لانے سے یہ کہہ کر انکار  کر دیا گیا  کہ تم بشر ہو، بھلا بشر بھی کہیں نبی ہو سکتا ہے ۔ مگر حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ کے جب لوگ معتقد ہوئے تو پھر ایسے ہوئے کہ انہیں بشریت کے مقام سے اُٹھا کر خدائی کے مرتبے تک پہنچا دیا۔ دوم یہ کہ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدائش ، اور ان کی گہوارے والی تقریر سے اس کے معجزہ ہونے کا کھُلا کھُلا ثبوت دیکھ لینے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کیا اور حضرت مریم پر تہمت لگائی اُن کو پھر سزا بھی ایسی دی گئی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا کے سامنے ایک نمونۂ عبرت بن گئی۔

  2. 47

    مختلف لوگوں نے اس سے مختلف مقامات مراد لیے ہیں۔ کوئی دمشق  کہتا ہے، کوئی الرَّ مْلَہ ، کوئی بیت المَقدِس، اور کوئی مصر مسیحی روایات کے مطابق حضرت مریم ؑ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے بعد ان کی حفاظت کے لیے دو مرتبہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ پہلے ہیرودیس بادشاہ کے عہد میں وہ انہیں مصر لے گئیں اور اس کی موت تک وہیں رہیں۔ پھر اَرْخِلاؤس کے عہدِ حکومت میں ان کو گلیل کے شہر ناصرہ میں پناہ لینی پڑی (متی 2 – 13 تا 23 ) ۔ اب یہ بات یقین  کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ قرآن کا اشارہ کس مقام کی طرف ہے لغت میں رَبْوَہ اس بلند زمین کو کہتے ہیں جو ہموار  ہواور اپنے گردوپیش  کےعلاقے  سے اُونچی ہو۔ ذاتِ قرار سے مراد یہ ہے کہ اس جگہ ضرورت کی سب چیزیں پائی جاتی ہوں اور رہنے والا وہاں بفراغت زندگی بسر کر سکتا ہو۔ اور مَعیِن سے مراد ہے بہتا ہُوا  پانی یا چشمہ ٔ جاری۔

Al-Mu'minun 23:50 — Translation & Tafsir | Read Maududi