Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mu'minun 23:33

Verse 33 of 118

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ۟

ترجمہ

اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھُٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسُودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگو”یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا۔ جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے

English translation

The notables among his people who had refused to believe and who denied the meeting of the Hereafter, and those whom We had endowed with ease and comfort in this life, cried out: "This is no other than a mortal like yourselves who eats what you eat and drinks what you drink.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 36

    یہ خصوصیات لائقِ غور ہیں۔ پیغمبر کی  مخالفت کے لیے اُٹھنے والے اصل لوگ وہ تھے جنہیں قوم کی سرداری حاصل تھی۔ ان سب کی مشترک گمراہی یہ تھی کہ وہ آخرت کے منکر تھے ، اس لیے خدا کے سامنے کسی ذمہ داری و جواب دِہی کا انہیں اندیشہ نہ تھا ، اور اسی لیے وہ دنیا کی اِس زندگی پر فریفتہ تھے اور ”مادّی فلاح و بہبُود“ سے بلند تر کسی قدر کے قائل نہ تھے۔ پھر اس گمراہی میں جس چیز نے ان کو بالکل ہی غرق کر دیا تھا وہ خوشحالی و آسودگی تھی جسے وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ وہ عقیدہ، وہ نظامِ اخلاق ، اور وہ طرزِ زندگی غلط بھی ہو سکتا ہے  جس پر چل کر انہیں دنیا میں یہ کچھ کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں۔ انسانی تاریخ بار بار اس حقیقت کو دُہراتی رہی ہے کہ دعوتِ حق کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ اِنہی تین خصوصیات  کے حامل لوگ ہوئے ہیں۔ اور یہی اُس وقت کا منظر بھی تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکّے میں اصلاح کی سعی فرما رہے تھے۔

Al-Mu'minun 23:33 — Translation & Tafsir | Read Maududi