Al-Mu'minun 23:17
Verse 17 of 118
وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَ ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ ۟
ترجمہ
اور تمہارے اُوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے۔
English translation
We have indeed fashioned above you seven paths. Never were We unaware of the task of creation.
تفہیم القرآن — حواشی
- 15
اصل میں لفظ طرائق استعمال ہوا ہے جس کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو غالبًا اس سے مراد سات سیّاروں کی گردش کے راستے ہیں ، اور چونکہ اس زمانے کا انسان سبع سیارہ ہی سے واقف تھا، اس لیے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اِس کے معنی بہر حال یہ نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ اور دوسرے راستے نہیں ہیں۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو سَبْعَ طَرَآئِقَ کا وہی مفہوم ہوگا جو سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا (سات آسمان طبق بر طبق) کا مفہوم ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ”تمہارے اوپر“ ہم نے سات راستے بنائے ، تو اس کا ایک تو سیدھا سادھا مطلب وہی ہے جو ظاہر الفاظ سے ذہن میں آتا ہے ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم سے بھی زیادہ بڑی چیز ہم نے یہ آسمان بنائے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا کہ لَخَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ۔ ”آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے“۔ (المومن۔ آیت 57)۔
- 16
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے : ”اور مخلوقات کی طرف سے ہم غافل نہ تھے، یا نہیں ہیں۔“ متن میں جو مفہوم لیا گیا ہے اس کےلحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو ہم نے بنایا ہے ، یہ بس یونہی کسی اناڑی کے ہاتھوں الل ٹپ نہیں بن گیا ہے، بلکہ اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر پورے علم کے ساتھ بنایا گیا ہے، اہم قوانین اس میں کار فرما ہیں، ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سارے نظامِ کائنات میں ایک مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ، اور اس کار گاہِ عظیم میں ہر طرف ایک مقصدیّت نظر آتی ہے جو بنانے والے کی حکمت پر دلالت کررہی ہے۔ دوسرا مفہوم لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہم نے پیدا کی ہے اس کی کسی حاجت سے ہم کبھی غافل، اور کسی حالت سے کبھی بے خبر نہیں رہے ہیں۔ کسی چیز کو ہم نے اپنے منصوبے کے خلاف بننے اور چلنے نہیں دیا ہے ۔ کسی چیز کی فطری ضروریات فراہم کرنے میں ہم نے کوتاہی نہیں کی ہے۔ اور ایک ایک ذرے اور پتّے کی حالت سے ہم باخبر رہے ہیں۔
