Al-Mu'minun 23:100
Verse 100 of 118
لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا ؕ وَمِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۟
ترجمہ
اُمید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا“۔۔۔۔ ہر گز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَک رہا ہے۔ اب ان سب(مرنے والوں)کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔
English translation
that I have left behind. I am likely to do good." Nay, it is merely a word that he is uttering. There is a barrier behind all of them (who are dead) until the Day when they will be raised up.
تفہیم القرآن — حواشی
- 93
یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل بجہنم ہونے تک ، بلکہ اس کے بعد بھی، بار بار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیاجائے، اب ہماری توبہ ہے، اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے، اب ہم سیدھی را ہ چلیں گے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الانعام، آیات 27، 28۔ الاعراف، 53۔ ابراہیم ، 44، 45۔ المومنون، 1۰5 تا 115۔ الشعراء، 1۰2۔ السجدہ، 12 تا 14۔ فاطر، 37۔ الزمر، 58 – 59۔ المومن، 1۰ تا 12۔ الشوریٰ، 44۔ مع حواشی)۔
- 94
یعنی اس کو واپس نہیں بھیجا جائے گا ۔ از سرِ نو عمل کرنے کے لیے کوئی دوسرا موقع اب اسے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں دوبارہ امتحان کے لیے آدمی کو اگر واپس بھیجا جائے تو لا محالہ دو صورتوں میں سے ایک ہی صورت اختیار کرنی ہو گی۔ یا تو اس کے حافظے اور شعور میں وہ سب مشاہدے محفوظ ہوں جو مرنے کے بعد اس نے کیے۔ یا ان سب کو محو کر کے اسے پھر ویسا ہی خالی الذ ہن پیدا کیا جائے جیسا وہ پہلی زندگی میں تھا۔ اول الذکر صورت میں امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔کیونکہ اس دنیا میں تو آدمی کا امتحان ہے ہی اس بات کا کہ وہ حقیقت کا مشاہدہ کیے بغیر اپنی غفل سے حق کو پہچان کر اسے مانتا ہے کہ نہیں ، اور طاعت و معصیت کی آزادی رکھتے ہوئے ان دونوں راہوں میں سے کس راہ کو انتخاب کرتا ہے۔ اب اگر اسے حقیقت کا مشاہدہ بھی کرا دیا جائے اور معصیت کا انجام عملًا دکھا کر معصیت کے انتخاب کی راہ بھی اس پر بند کر دی جائے تو پھر امتحان گاہ میں اسے بھیجنا فضول ہے۔ ا س کے بعد کون ایمان نہ لائے گا اور کون طاعت سے منہ موڑ سکے گا۔ رہی دوسری صورت، تو یہ آزمودہ را آزمودن کا ہم معنی ہے ۔ جو شخص ایک دفعہ اسی امتحان میں ناکام ہوچکا ہے اُسے پھر بعینہٖ ویسا ہی ایک اور امتحان دینے لیے بھیجنا لا حاصل ہے، کیونکہ وہ پھر وہی کچھ کرے گا جیسا پہلے کر چکا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل، البقرہ، حاشیہ 228۔ الانعام، حواشی ۶ – 139 – 14۰۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ 2۶)۔
- 95
یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”یہ تو اب اسے کہنا ہی ہے“۔ مطلب یہ ہےکہ اس کی یہ بات قابلِ التفات نہیں ہے۔ شامت آجانے کے بعد اب وہ یہ نہ کہے گا تو اور کیاکہے گا۔ مگر یہ محض کہنے کی بات ہے۔ پلٹے گا تو پھر وہی کچھ کرے گا جو کر کے آیا ہے۔ لہٰذا اِسے بکنے دو۔ واپسی کا دروازہ اس پر نہیں کھولا جا سکتا۔
- 96
”برزخ“ فارسی لفظ” پردہ“ کا معرّب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اب اِن کے اور دنیا کے درمییان ایک روک ہے جو انہیں واپس جانے نہیں دے گی، اور قیامت تک یہ دنیا اور آخرت کے درمیان کی اِس حد ِ فاصل میں ٹھیرے رہیں گے۔
