Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Hajj 22:67

Verse 67 of 78

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّكَ ؕ اِنَّكَ لَعَلٰی هُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ۟

ترجمہ

ہر اُمّت کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت  مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ ، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ تم اپنے ربّ کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔

English translation

For every people We have prescribed a way of worship which they follow. So, (O Muhammad), let them not dispute with you concerning this, and call them to Your Lord. You are certainly on the Straight Way.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 114

    یعنی ہر نبی کی اُمّت۔

  2. 115

    یہاں مَنْسَک کا لفظ قربانی کے معنی میں نہیں بلکہ پورے نظامِ عبادت کےمعنی میں ہے۔ اس سے پہلے اسی لفظ کا ترجمہ”قربانی کا قاعدہ“ کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں بعد کا فقرہ”تاکہ لوگ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں“ اس کے وسیع معانی میں سے صرف قربانی مراد ہونے کی تصریح کر رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے محض ”قربانی“ کے معنی میں لینے کی کو ئی وجہ نہیں  ہے۔ بلکہ عبادت کو بھی اگر”پرستش“ کے بجائے”بندگی“ کے وسیع تر مفہوم میں لیا جائے تو مدعا سے قریب تر ہو گا۔  اس طرح منسک (طریقِ زندگی) کے وہی معنی ہوجائیں گے جو شریعت اور منہاج کے معنی ہیں، اور یہ اسی مضمون کا اعادہ ہو گا جو سورۂ مائدہ میں فرمایا گیا ہے کہ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْ عَتً وَّمِنْھَاجًا،  ”ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی“ (آیت 48)۔

  3. 116

    یعنی جس طرح پہلے انبیاء اپنے اپنے دَور کی اُمتوں کے لیے ایک”منسک“ لائے تھے، اسی طرح اس دَور کی اُمت کے لیے تم ایک منسک لائے ہو۔ اب کسی کو تم سے نزاع کرنے کا حق  حاصل نہیں ہے ،کیونکہ اس دور کے لیے یہی منسک ِ حق ہے۔ سُورۂ جاثیہ میں اِس مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے:  ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلیٰ شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَا تَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ  اَھْوَ آءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (آیت 18) ”پھر (انبیاء بنی اسرائیل کے بعد) اَے محمدؐ ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک شریعت (طریقے) پر قائم کیا ، پس تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے“۔ (مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ نمبر 2۰)۔

  4. 117

    یہ فقرہ اس مطلب کو پوری طرح واضح کر رہا ہے جو پچھلے فقرے کی تفسیر میں ابھی ہم بیان کر آئے ہیں۔

Al-Hajj 22:67 — Translation & Tafsir | Read Maududi