Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Hajj 22:55

Verse 55 of 78

وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰی تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ۟

ترجمہ

انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہوجائے

English translation

The unbelievers will not cease to be in doubt about it until the Hour suddenly comes upon them, or the chastisement of an ominous day overtakes them.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 101

    اصل میں لفظ”عَقِیْم“ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ”بانجھ“ ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کار گر نہ ہو، ہر کوشش اُلٹی پڑے، اور ہر اُمید مایوسی میں تبدیل ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہو جائے۔ مثلاً جس روز قومِ نوح پر طوفان آیا، وہ ان کے لیے ”بانجھ“ دن تھا۔ اسی طرح عاد ،ثمود، قومِ لوط، اہلِ مَدیَن، اور دوسرے سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذابِ الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہُوا۔ کیونکہ اُس  ”امروز“ کا کوئی ”فردا“ پھر وہ نہ دیکھ  سکے، اور کوئی چارہ گری اُن کے لیے ممکن نہ ہوئی جس سے وہ اپنی قسمت کی بگڑی بنا سکتے۔

Al-Hajj 22:55 — Translation & Tafsir | Read Maududi