Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Hajj 22:30

Verse 30 of 78

ذٰلِكَ ۗ وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ؕ وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۟ۙ

ترجمہ

یہ تھا (تعمیرِ کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حُرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے ربّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ماسوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں۔ پس بُتوں کی گندگی سے بچو، جھُوٹی باتوں سے پرہیز کرو،

English translation

Such (was the purpose of building the Kabah). Whosoever, then, venerates Allah's sanctities will find it to be good for him in the sight of his Lord. Cattle have been made lawful for you except those mentioned to you (as unlawful). So shun the abomination of idols and shun all words of falsehood.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 53

    بظاہر یہ ایک عام نصیحت ہے جو اللہ کی قائم کی ہوئی تمام حرمتوں کا احترام کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے، مگر اس سلسلہ ٔ کلام میں وہ حرمتیں بدرجۂ اولیٰ مراد ہیں جو مسجد حرام اور حج اور عمرے اور حرمِ مکّہ کےباب میں قائم کی گئی ہیں۔ نیز اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ قریش نے حرم سے مسلمانوں کو نکال کر اور ان پر حج کا راستہ بندکر کے اور مناسکِ حج میں مشرکانہ و جاہلانہ رسمیں شامل کر کے اور بیت اللہ کو شرک کی گندگی سے ملوث کر کر کے  اُن بہت سی حرمتوں کی ہتک کر ڈالی ہے جو ابراہیم علیہ السّلام کے وقت سے قائم کر دی گئی تھیں۔

  2. 54

    اس موقع  پر مویشی جانوروں کی حِلّت کا ذکر کرنے سے مقصُود  دو غلط فہمیوں کو رفع کرنا ہے۔ اوّل یہ کہ قریش اور مشرکینِ عرب بَحِیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام کو بھی اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں شمار کرتے تھے ۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہ اس کی قائم کردہ حرمتیں نہیں ہیں، بلکہ اس نے تمام مویشی جانور حلال کیے ہیں۔ دوم یہ کہ حالت ِ احرام میں جس طرح شکار حرام ہے اُس طرح کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مویشی جانوروں کا ذبح کرنا اور ان کو کھانا بھی حرام ہے۔ اس لیے بتایا گیا  کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں سے نہیں ہے۔

  3. 55

    اشارہ ہے اس حکم کی طرف جو سورۂ انعام اور سورۂ نحل میں ارشاد ہوا ہے کہ (اللہ نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے وہ ہیں مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے)۔ (الانعام، آیت 145۔ النحل، آیت 115)۔

  4. 56

    یعنی بتوں کی پرستش سے اس طرح بچو جیسے غلاظت سے آدمی گھِن کھاتا ہے اور دُور ہٹتا ہے۔ گویا کہ وہ نجاست سے بھرے ہوئے ہیں اور قریب جاتے ہی آدمی اُن سے نجس اور پلید ہو جائے گا۔

  5. 57

    ”اگرچہ الفاظ عام ہیں، اور ان سے ہر جھوٹ، بہتان، اور جھوٹی شہادت کی حرمت ثابت ہوتی ہے، مگر اس سلسلۂ کلام میں خاص طور پر اشارہ اُن باطل عقائد اور احکام اور رسوم اور اوہام کی طرف ہے جن پر کفر و شرک کی بنیا دہے۔ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیرانا اور اس کی ذات ، صفات ، اختیارات اور حقوق میں اس کے بندوں کو حصہ دار بنانا  وہ سب بڑا جھوٹ ہے جس سے یہاں منع کیا گیا ہے۔ اور پھر وہ جھوٹ بھی اس فرمان کی براہِ راست زد میں آتا ہے جس کی بنا پر مشرکینِ عرب بَحِیرہ اور سائبہ اور حام وغیرہ کو حرام قرار دیتے تھے، جیسا کہ سورۂ نحل میں فرمایا   وَلَا نَقُوْلُوْ ا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْ ا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ،  ”اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلا ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو“۔( آیت 11۶) اس کے ساتھ جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت بھی اسی حکم کے تحت آتی ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا    عُدِلت شھادۃ الزور بالا شراک باللہ، ”جھُوٹی گواہی شرک باللہ کے برابر رکھی گئی ہے“،اور پھر آپؐ نے ثبوت میں یہی آیت پیش فرمائی۔ اسلامی قانون میں یہ جرم مستلزم تعزیر ہے۔ امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ جو شخص عدالت میں جھوٹا گواہ ثابت ہو جائے اُ س کی تشہیر کی جائے اور لمبی قید کی سزا دی جائے۔ یہی حضرت عمر ؓ کا قول اور فعل بھی ہے۔ مَکْحول کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا   یُضْرب ظھرہ و یحلق رأ سہ و یسخم و جھہ و یطال حبسہ، ”اس کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں، اس کا سر مونڈا جائے اور منہ کالا کیا جائے اور لمبی قید کی سزا دی جائے“۔ عبداللہ بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی عدالت میں ایک شخص کی گواہی جھوٹی ثابت ہوگئی تو انہوں نے اس کو ایک دن برسرِ عام کھڑا رکھ کر اعلان کرایا کہ یہ فلاں بن فلاں جھوٹا گواہ ہے ، اِسے پہچان لو، پھر اس کو قید  کردیا۔ موجودہ زمانے میں ایسے شخص کا نام اخبارات میں نکال دینا تشہیر کا مقصد پورا کر سکتا ہے۔

Al-Hajj 22:30 — Translation & Tafsir | Read Maududi