Al-Hajj 22:27
Verse 27 of 78
وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ۟ۙ
ترجمہ
اور لوگوں کو حج کے لیے اِذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں پر سوار آئیں،
English translation
and publicly proclaim Pilgrimage for all mankind so that they come to you on foot and mounted on lean camels from every distant point
تفہیم القرآن — حواشی
- 45
اصل میں لفظ ”ضامر“ استعمال ہوا ہے جو خاص طوعر پر دُبلے اُونٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ اس سے اُن مسافروں کی تصویر کھینچنا مقصود ہے جو دور دراز مقامات سے چلے آرہے ہوں اور راستے میں اُن کے اُونٹ چارہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے دُبلے ہو گئے ہوں۔
- 46
یہاں وہ حکم ختم ہوتا ہے جو ابتداءً حضرت ابراہیمؑ کو دیا گیا تھا، اور آگے کا ارشاد اس پر اضافہ ہے جو بطور تشریح مزید کیا گیا ہے ۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اِس کلام کا خاتمہ”اِس قدیم گھر کا طواف کریں“ پر ہوا ہے، جو ظاہر ہے کہ تعمیر خانۂ کعبہ کے وقت نہ فرمایا گیا ہوگا۔ (حضرت ابراہیم ؑ کی تعمیر خانۂ کعبہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ، سورۂ بقرہ، آیات 125 – 129 ۔ آل ِ عمران ، آیات 9۶ – 97۔ ابراہیم، آیات 35 – 41)۔
