Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Hajj 22:2

Verse 2 of 78

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ ۟

ترجمہ

جس روز تم اُسے دیکھو گے، حال یہ ہوگا کہ ہر دُودھ پلانے والی اپنے دُودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گِر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔

English translation

On the Day when you witness it, the suckling woman shall utterly neglect the infant she suckles, and every pregnant woman shall cast her burden, and you will see people as though they are drunk, when they are not drunk; but dreadful shall be Allah's chastisement.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 2

    آیت میں مُرْضِع کے بجائے مُرْ ضِعَہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربیت کے لحاظ سے دونوں میں فرق یہ ہے کہ مُرضِعْ اُس عورت کو کہتے ہیں جو دودھ پلانے والی ہو، اور مُرْضِعَہ اُس حالت میں بولتے ہیں جبکہ وہ بالفعل دودھ پلا رہی ہو اور بچہ اس کی چھاتی منہ میں لیے ہوئے ہو۔ پس یہاں نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ جب وہ قیامت کا زلزلہ آئے گا تو مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے پلاتے چھوڑ کر بھاگ نکلیں گی اور کسی ماں کو یہ ہوش نہ رہے گا کہ اس کے لاڈلے پر کیا گزری۔

  2. 3

    واضح رہے کہ یہاں اصل مقصودِ کلام قیامت کا حال بیان کر نا نہیں ہے بلکہ خدا کے عذاب کا خوف دلا کر اُن باتوں سے بچنے کی تلقین کرنا ہے جو اس کے غضب کی موجب ہوتی ہیں۔ لہٰذا قیامت کی اِس مختصر کیفیت کے بعد آگے اصل مقصود پر گفتگو شروع ہوتی ہے۔

Al-Hajj 22:2 — Translation & Tafsir | Read Maududi