Al-Anbiya' 21:87
Verse 87 of 112
وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۚۖ
ترجمہ
اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا۔ یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ آخر کو اُس نے تاریکیوں میں سے پکارا” نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قُصور کیا۔“
English translation
And We bestowed Our favour upon Dhu al-Nun. Recall, when he went forth enraged, thinking We have no power to take him to task. Eventually he cried out in the darkness:" There is no god but You. Glory be to You! I have done wrong."
تفہیم القرآن — حواشی
- 82
مراد ہیں حضرت یونس ؑ ۔ کہیں ان کا نام لیا گیا ہے اور کہیں ”ذو النون“ اور ”صاحب الحوت“ یعنی ”مچھلی والے“ کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مچھلی والا اُنہیں اس لیے نہیں کہا گیا کہ وہ مچھلیاں پکڑتے یا بیچتے تھے، بلکہ اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا ، جیسا کہ سورۂ صافات آیت 142 میں بیان ہوا ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، یونس، حواشی 98 تا 1۰۰۔ الصٰفّٰت، حواشی 77 تا 85۔
- 83
یعنی وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے قبل اِس کے کہ خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم آتا اور اُن کے لیے اپنی ڈیوٹی چھوڑنا جائز ہوتا۔
- 84
انہوں نے خیال کیا کہ اس قوم پر تو عذاب آنے والا ہے، اب مجھے کہیں چل کر پناہ لینی چاہیے تاکہ خود بھی عذاب میں نہ گھِر جاؤں۔ یہ بات بجائے خود تو قابلِ گرفت نہ تھی مگر پیغمبر کا اذن ِ الہٰی کے بغیر ڈیوٹی سے ہٹ جانا قابلِ گرفت تھا۔
- 85
یعنی مچھلی کے پیٹ میں سے جو خود تاریک تھا، اور اوپر سے سمندر کی تاریکیاں مزید۔
