Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Anbiya' 21:37

Verse 37 of 112

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ۟

ترجمہ

انسان جلد باز مخلوق ہے۔ ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاوٴ

English translation

Man is hasty by nature. I shall certainly show you My Signs. Do not ask Me to be hasty.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 41

    اصل میں خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا لفظی ترجمہ ہے ” انسان جلد بازی سے بنایا گیا ہے ، یا پیدا کیا گیا ہے “۔ لیکن یہ لفظی معنی اصل مقصود کلام نہیں ہیں ۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص عقل کا پُتلا ہے ، اور فلاں شخص حرفوں کا بنا ہوا ہے، اُسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز اُس کی سرشت میں ہے۔ یہی بات جس کو یہاں خُلِقَ الْاِ نْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کہہ کر ادا کیا گیا ہے ، دوسری جگہ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا،  ”انسان جلد باز واقع ہوا ہے“ (بنی اسرائیل ، آیت 11) کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

  2. 42

    بعد کی تقریر صاف بتا رہی ہے کہ یہاں”نشانیوں“ سے کیا مراد ہے۔ وہ لوگ جن باتوں کا مذاق اُڑاتے تھے اُن میں سے ایک عذاب ِ الہٰی ، اور قیامت اور جہنم کا مضمون بھی تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص آئے دن ہمیں ڈراوے دیتا ہے کہ میرا انکار کرو گے تو خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے گا، اور قیامت میں تم پر یہ بنے گی اور تم لوگ یوں جہنم کے ایندھن بنائے جاؤ گے۔ مگر ہم روز انکار کرتے ہیں اور دندناتے پھر رہےہیں۔ نہ کوئی عذاب آتا دکھائی دیتا ہے اور نہ کوئی قیامت ہی ٹوٹی پڑ رہی ہے ۔ اسی  کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے۔

Al-Anbiya' 21:37 — Translation & Tafsir | Read Maududi