Al-Anbiya' 21:30
Verse 30 of 112
اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ؕ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ ۟
ترجمہ
کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے)انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ کیا وہ (ہماری اِس خلاقی کو)نہیں مانتے؟
English translation
Did the unbelievers (who do not accept the teaching of the Prophet) not realize that the heavens and the earth were one solid mass, then We tore them apart, and We made every living being out of water? Will they, then, not believe (that We created all this)?
تفہیم القرآن — حواشی
- 28
اصل میں لفظ”رتق“ اور ”فتق“ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ رَتق کے معنی ہیں یکجا ہونا، اکٹھا ہونا، ایک دوسرے سے جُڑا ہوا ہونا، متصل اور متلاصق ہونا۔ اور فتق کے معنی پھاڑنے اور جدا کرنے کے ہیں۔ بظاہر ان الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass ) کی سی تھی ، بعد میں اُس کے الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے زمین اور دوسرے اَجرامِ فلکی جدا جدا دنیاؤں کی شکل میں بنائے گئے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، حٰمٓ السجدہ ، حاشیہ نمبر 13 – 14 – 15)۔
- 29
اس سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کو خدا نے سببِ زندگی اور اصلِ حیات بنایا، اُسی میں اور اُسی سے زندگی کا آغاز کیا۔ دوسری جگہ اس مطلب کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، وَاللہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَآ ءٍ (النور، آیت نمبر 45)”اور خدا نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا“۔
