Al-Anbiya' 21:19
Verse 19 of 112
وَلَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ وَمَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْنَ ۟ۚ
ترجمہ
زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے۔ اور جو (فرشتے)اُس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملُول ہوتے ہیں۔
English translation
To Him belongs whosoever dwells in the heavens and on earth. Those (angels) that are with Him neither disdain to serve Him out of pride, nor do they weary of it.
تفہیم القرآن — حواشی
- 18
یہاں سے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر گفتگو شروع ہوتی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکینِ مکہ کے درمیان اصل بنائے نزاع تھی۔ اب مشرکین کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کائنات کا یہ نظام جس میں تم جی رہے ہو (جس کے متعلق ابھی یہ بتایا جاچکا ہے کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھلونا نہیں ہے ، جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور با مقصد اور مبی بر حقیقت نظام ہے ، اور جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس میں باطل ہمیشہ حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے) اِس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پورے نظام کا خالق، مالک، حاکم اور ربّ صرف ایک خدا ہے، اور اس حقیقت کے مقابلے میں باطل یہ ہے کہ اسے بہت سے خداؤں کی مشترک سلطنت سمجھا جائے ، یا یہ خیال کیا جائے کہ ایک بڑے خدا کی خدائی میں دوسرے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا بھی کچھ دخل ہے۔
- 19
یعنی وہی فرشتے جن کو مشرکینِ عرب خدا کی اولاد سمجھ کر، یا خدائی میں دخیل مان کر معبود بنائے ہوئے تھے۔
- 20
عنی خدا کی بندگی کرنا ان کو ناگوار بھی نہیں ہے کہ بادل نا خواستہ بندگی کرتے کرتے وہ ملول ہو جاتے ہوں۔ اصل میں لفظ لا یستحسرون استعمال کیا گیا ہے ۔ استحسار میں تکان کا مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اور اس سے مراد وہ تکان ہے جو کسی ناگوار کام کے کرنے سے لاحق ہو تی ہے۔
