Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Ta-Ha 20:80

Verse 80 of 135

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ۟

ترجمہ

اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اُتارا۔

English translation

Children of Israel! We saved you from your enemy and made a covenant with you on the right side of the Mount and sent down on you manna and quails,

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 57

    سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہِ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے ۔ اس کی تفصیلات سورۂ اعراف رکوع 1۶ – 17 میں گزر چکی ہے۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے ( تفہیم القرآن ۔ جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ نمبر 98)۔

  2. 58

    یعنی طُور کے مشرقی دامن میں۔

  3. 59

    سورۂ بقرہ رکوع ۶، اور سورۂ اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا کیے گئے۔

  4. 60

    “من و سلویٰ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اوّل البقرہ، حاشیہ نمبر 73۔ الاعراف ، حاشیہ نمبر 119۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کےبعد جب بنی اسرائیل دشتِ سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آگئی تھی، اس وقت من و سلویٰ کا نزول شروع ہوا ، اور فلسطین کے اباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا( خروج، باب 1۶۔ گنتی، باب 11۔ آیت 7 – 9 ۔ یشوع، باب 5، آیت 12)۔ کتاب خروج میں من و سلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے:”اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ کو ڈھانک لیا۔ اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گو ل چیز، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں ، زمین پر پڑی ہے۔ بنی اسرائیل اُسے دیکھ کر آپس میں کہنےلگے مَن؟ کیونکہ وہ نہیں جانے تھے کہ  وہ کیا ہے“(باب 1۶ – آیت 13 – 15)۔”اور بنی اسرائیل نے اُس کا نام مَن رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے نے ہوئے پوئے کی طرح تھا “ (آیت 31)۔گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے:”لوگ اِدھر اُدھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے یا اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے۔ پھر اُسے ہانڈیوں میں اُبال کر روٹیاں بناتے تھے۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ مَن بھی گرتا تھا“ (باب 11، آیت 8 – 9)۔                یہ بھی ایک معجزہ تھا ۔ کیونکہ 4۰ برس بعد جب بنی اسرائیل کے لیے خوراک کے فطری ذرائع بہم پہنچ گئے تو یہ سلسلہ بند کر دیا گیا ۔ اب نہ اس علاقے میں بٹیروں کی وہ کثرت ہے ، نہ مَن ہی کہیں پایا جاتا ہے۔ تلاش و جستجو کرنے والوں نے اُن علاقوں کو چھان مارا ہے جہاں بائیبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے 4۰ سال تک دشت نوردی کی تھی۔ مَن اُن کو کہیں نہ ملا۔ البتہ کاروباری لوگ خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لیے مَن کا حلوا ضرور بیچتے پھرتے ہیں۔

Ta-Ha 20:80 — Translation & Tafsir | Read Maududi