Ta-Ha 20:69
Verse 69 of 135
وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ ؕ وَلَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی ۟
ترجمہ
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نِگلے جاتا ہے۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے، اور جادُوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔“
English translation
And throw down what is in your right hand; it will swallow up all that they have wrought. They have wrought only a magician's stratagem. A magician cannot come to any good, come whence he may."
تفہیم القرآن — حواشی
- 43
ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آرہی تھیں ۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے اُن سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹھیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اُس جادو کے اثر کو باطل کردیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آرہی تھیں۔ سورۂ اَعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفُ مَا یَا فِکُوْنَ،”جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا “۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا،” وہ نگل جائے گا اُس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے“۔ اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا جھوٹ اور ان کی بناوٹ لاٹھیاں اور رسیاں نہ تھیں بلکہ وہ جادو تھا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آرہی تھیں۔ اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ جدھر جدھر وہ گیا لاٹھیوں اور رسیوں کو نِگل کر اس طرح پیچھے پھینکتا چلا گیا کہ ہر لاٹھی ، لاٹھی اور ہر رسی ، رسی بن کر پڑی رہ گئی۔
