Ta-Ha 20:117
Verse 117 of 135
فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰی ۟
ترجمہ
اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاو
English translation
Then We said: "Adam! He is an enemy to you and to your wife. So let him not drive both of you out of Paradise and plunge you into affliction,
تفہیم القرآن — حواشی
- 96
یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم علیہ السلام کو دیا گیا تھا ، یعنی یہ کہ ”اِس خاص درخت کا پھل نہ کھانا“۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہو چکا ہے۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہوجاتا ہے ، اور کسی طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اُس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی۔
- 97
دشمنی کا مظاہرہ اُسی وقت ہو چکا تھا۔ آدم اور حوا علیہما السّلام نے خود دیکھ چکے تھے کہ ابلیس نے ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ہے اور صاف صاف یہ کہہ کر کیا ہے کہ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ،”میں اس سے بہتر ہوں ، تُو نےمجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے“(اعراف ۔ آیت 12۔ ص۔ آیت 7۶)۔ اَرَ اَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّ مْتَ عَلَیَّ، ”ذرا دیکھ تو سہی، یہ ہے وہ ہستی جس کو تُو نے مجھ پر فضیلت دی ہے“۔ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا،” اب کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تُو نے مٹی سے بنایا ہے؟“ (بنی اسرائیل ۔ آیات ۶1 – ۶2) ۔ پھر اتنے ہی پر اس نے اکتفا نہ کیا کہ کھلم کھلا اپنے حسد کا اظہار کر دیا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس نے مہلت بھی مانگی کہ مجھے اپنی فضیلت اور اس کی نااہلی ثابت کرنے کا موقع دیجیے، میں اِسے بہکا کر آپ کو دکھادوں گا کہ کیسا ہے یہ آپ کا خلیفہ۔ اعراف، حِجر اور بنی اسرائیل میں اس کا یہ چیلنج گزر چکا ہے اور آگے سورۂ ص میں بھی آرہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ یہ تمہارا دشمن ہے، تو یہ محض ایک امر غیب کی اطلاع نہ تھی ، بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے عین برسر موقع دونوں میاں بیوی اپنی آنکھوں دیکھ چکے اور اپنے کانوں سُن چکے تھے۔
- 98
اس طرح یہ بھی دونوں کو بتا دیا گیا کہ اگر اس کے بہکائے میں آکر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو جنت میں نہ رہ سکو گے اور وہ تمام نعمتیں تم سےچھن جائیں گی جو تم کو یہاں حاصل ہیں۔
