Ta-Ha 20:101
Verse 101 of 135
خٰلِدِیْنَ فِیْهِ ؕ وَسَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًا ۟ۙ
ترجمہ
اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا،
English translation
and will abide under this burden for ever. Grievous shall be the burden on the Day of Resurrection,
تفہیم القرآن — حواشی
- 78
اس میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی ہے کہ جو شخص اس درسِ نصیحت ، یعنی قرآن سے منہ موڑے گا اور اس کی ہدایت و رہنمائی قبول کرنے سے انکار کرے گا ، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بھیجنے والے خدا کا کچھ نہ بگاڑ ے گا۔ اُس کی یہ حماقت دراصل اس کی خود اپنے ساتھ دشمنی ہو گی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ کوئی شخص ، جس کو قرآن کی یہ نصیحت پہنچے اور پھر وہ اسے قبول کرنے سے پہلو تہی کرے ، آخرت میں سزا پانے سے بچ نہیں سکتا۔ آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ کسی قوم ، کسی ملک، کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ جب تک یہ قرآن دنیا میں موجود ہے، جہاں جہاں ، جس جس ملک اور قوم کے ، جس شخص کو بھی یہ پہنچے گا ، اس کے لیے دو ہی راستے کھلے ہوں گے۔ تیسرا کوئی راستہ نہ ہو گا۔ یا تو اس کو مانے اور اس کی پیروی اختیار کرے۔ یا اس کو نہ مانے اور اس کی پیروی سے منہ موڑ لے۔ پہلا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام آگے آرہا ہے۔ اور دوسرا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام یہ ہے جو اِس آیت میں بتا دیا گیا ہے۔
