Al-Baqarah 2:90
Verse 90 of 286
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ۟
ترجمہ
کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل ( وحی ورسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب با لا ئے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کیلئےسخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے
English translation
Evil indeed is what they console themselves with. They deny the guidance revealed by Allah, grudging that He chose to bestow His gracious bounty (of revelation and prophethood) on some of His servants whom He willed. Thus they have brought on themselves wrath after wrath, and a humiliating chastisement is in store for such unbelievers.
تفہیم القرآن — حواشی
- 96
اِس آیت کا دُوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے : ” کیسی بُری چیز ہے، جس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔“ یعنی فلاح و سعادت اور اپنی نجات کو قربان کر دیا۔
- 97
یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والانبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دُوسری قوم میں پیدا ہوا ، جسے وہ اپنے مقابلےمیں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا جب اس نے ان سے نہ پُوچھا اور اپنےفضل سے خود جسے چاہا ، نواز دیا ، تو وہ بگڑ بیٹھے۔
