Al-Baqarah 2:79
Verse 79 of 286
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ ۟
ترجمہ
پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت
English translation
Woe, then, to those who write out the Scriptures with their own hands and then, in order to make a trifling gain, claim: “This is from Allah.” Woe to them for what their hands have written and woe to them for what they thus earn.
تفہیم القرآن — حواشی
- 90
یہ اُن کے علما کے متعلق ارشاد ہو رہا ہے ۔ ان لوگوں نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ کلامِ الہٰی کے معانی کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلا ہو، بلکہ یہ بھی کیا کہ بائیبل میں اپنی تفسیروں کو، اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو، اپنے خیالی فلسفوں کو، اور اپنے اجتہاد سے وضع کیے ہوئے فقہی قوانین کو کلامِ الہٰی کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہیں۔ ہر تاریخی افسانہ، ہر مُفَسِّر کی تاویل، ہر مُتَکلِّم کا الہٰیاتی عقیدہ، اور ہر فقیہ کا قانونی اجتہاد ، جس نے مجمُوعہٴ کتبِ مقدّسہ (بائیبل) میں جگہ پالی، اللہ کا قَول(Word of God ) بن کر رہ گیا۔ اُس پر ایمان لانا فرض ہو گیا اور اس سے پھرنے کے معنی دین سے پھر جانے کے ہو گئے۔
