Al-Baqarah 2:71
Verse 71 of 286
قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا ؕ قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ؕ فَذَبَحُوْهَا وَمَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ ۟۠
ترجمہ
موسیٰ ؑ ؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہو۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔
English translation
Moses answered: “Lo! He says, she is a cow unyoked to plough the earth or to water the tillage, one that has been kept secure, with no blemish on her!” Thereupon they cried out: “Now you have come forth with the information that will direct us aright.” And they slaughtered her although they scarcely seemed to do so.
تفہیم القرآن — حواشی
- 84
چونکہ ان لوگوں کو اپنی ہمسایہ قوموں سے گائے کی عظمت و تقدیس اور گا ؤ پرستی کے مرض کی چُھوت لگ گئی تھی اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ گائے ذبح کریں۔ ان کے ایمان کا امتحان ہی اسی طرح ہو سکتا تھا کہ اگر وہ واقعی اب خدا کے سوا کسی کو معبُود نہیں سمجھتے، تو یہ عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے جس بُت کو معبُود سمجھتے رہے ہیں اُسے اپنے ہاتھ سے توڑ دیں۔ یہ امتحان بہت کڑا امتحان تھا۔ دلوں میں پُوری طرح ایمان اُترا ہوا تھا، اس لیے اُنہوں نے ٹالنے کی کوشش کی اور تفصیلات پُوچھنے لگے۔ مگر جتنی جتنی تفصیلات وہ پُوچھتے گئے اتنے ہی گھِرتے چلے گئے یہاں تک کہ آخر کار اسی خاص قسم کی سنہری گائے پر، جسے اس زمانے میں پرستش کے لیے مختص کیا جاتا تھا، گویا اُنگلی رکھ کر بتا یا گیا کہ اِسے ذِبح کرو۔ بائیبل میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ ہے، مگر وہاں یہ ذکر نہیں ہے کہ بنی اسرائیل نے اس حکم کو کس کس طرح ٹالنے کی کوشش کی تھی۔ (ملاحظہ ہو گنتی ، باب 19- آیت 1۰-1)
