Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:65

Verse 65 of 286

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕیْنَ ۟ۚ

ترجمہ

پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصّہ تو معلوم ہی ہےجنہوں نےسَبت کا قانون توڑا تھا۔ہم نے اُنہیں کہ دیا کہ بندر بن جاوٴ اور اس حالت میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے۔

English translation

And you know the case of those of you who broke the Sabbath, how We said to them: “Become apes, despised and hated.”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 82

    سَبْت ، یعنی ہفتے کا دن ۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصُوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دُنیوی کام ، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حُرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے(ملاحظہ ہو خُروج ، باب 31 ، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دَور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت  کی بے حرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ اُن کے شہروں میں کُھلے بندوں  سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔

  2. 83

    اس واقعے کی تفصیل آگے سُورہ اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔ ان کے بندر بنائے جانے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جسمانی ہیئت بگاڑ کر بندروں کی سی کر دی گئی تھی اور بعض اس کے یہ معنی لیتے ہیں کہ ان میں بندروں کی سی صفات  پیدا ہو گئی تھیں۔ لیکن قرآن کے الفاظ اور اندازِ بیان سے ایسا  ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسخ اخلاقی  نہیں بلکہ  جسمانی تھا۔ میرے نزدیک قرینِ قیاس یہ ہے کہ ان کے دماغ بعینہااسی حال پر رہنے دیے گئے ہوں گے جس میں وہ پہلے تھے اور جسم مسخ ہو کر بندروں کے سے ہو گئے ہوں گے۔

Al-Baqarah 2:65 — Translation & Tafsir | Read Maududi