Al-Baqarah 2:58
Verse 58 of 286
وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ ؕ وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۟
ترجمہ
پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ”یہ بستیجو تمہارے سامنے ہےاس میں داخل ہو جاوٴاس کی پیداوار جس طرح چاہومزے سے کھاوٴمگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوےٴداخل ہونااور کہتے جانا حِطَّةٌ ، حِطَّةٌ، ہم تمہاری خطاوٴں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔“
English translation
And recall when We said: “Go into this town and eat abundantly of its food; but enter the gate prostrate, saying, “Repentance”.We will forgive you your sins and shall bestow more favour on the doers of good.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 74
یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مُراد کونسی بستی ہے۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا ۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اِس سے مُراد شِطّیم ہو، جو یَرِْیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کر دیے۔ ( گنتی-باب 25، آیت 8-1)
- 75
یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھُسنا، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا، جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے۔ اور حِطَّۃ ٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطا ؤ ں کی معافی مانگتے ہوئے جانا، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی کے باشندوں میں درگذر اور عام معافی کا اعلان کرتے جانا۔
