Al-Baqarah 2:51
Verse 51 of 286
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۟
ترجمہ
یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بُلایا،تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا بیٹھے۔اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی
English translation
And recall when We summoned Moses for a term of forty nights, and then you set up the calf as your god in his absence. You indeed committed a grave wrong.
تفہیم القرآن — حواشی
- 67
مصر سے نجات پانے بے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نما ئے سینا میں پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لےی کوہ ِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے، جواب آزاد ہو چکی تھی، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل، کتابِ خروج ، باب 24 تا 31)
- 68
گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا۔ حضرت یوسف ؑ کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے جن جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج ، باب32 میں تفصیل کے ساتھ درج ہے)
