Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:4

Verse 4 of 286

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ۟ؕ

ترجمہ

جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتےہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

English translation

who believe in what has been revealed to you and what was revealed before you, and have firm faith in the Hereafter.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 7

    یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی اُن تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں  اور ملکوں میں نازل کیں۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ اُن سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اُس کتاب یا اُن کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں، رہیں اُسی سر چشمے سے نکلی ہوئی دُوسری ہدایات تو وہ اُن کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن اپنا چشمہء فیض صرف اُن لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے، اور پھر وہ کسی نسلی و قومی تعصّب میں بھی مُبتلا نہ ہوں بلکہ خالص حق کے پرستا ر ہوں، اس لیے حق جہاں جہاں جس شکل میں بھی آیا ہے اس  کے آگے سر جھکا دیں۔

  2. 8

    یہ چھٹی اور آخری شرط ہے۔ ”آخرت“ ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق بہت سے عقائد کے مجموعے پر ہوتا  ہے ۔ اس میں حسبِ ذیل عقائد شامل ہیں:                 (1)          یہ کہ انسان اِس دُنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اپنے تمام اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔                (2)         یہ کہ دُنیا کا موجودہ نظام ابدی نہیں ہے بلکہ ایک وقت پر، جسے صرف خدا ہی جانتا ہے ، اس کا خاتمہ ہوجا ئے گا۔                (3)         یہ کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد خدا ایک دُوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوعِ انسانی کو جو ابتدا ئے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا، اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔                 (4)         یہ کہ خدا کے اس فیصلے کی رُو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنّت میں جائیں گے اور جو لوگ بد ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔                 (5)         یہ کہ کامیابی و ناکامی کا اصلی معیار موجودہ زندگی کی خوشحالی و بدحالی نہیں ہے، بلکہ در حقیقت کامیاب انسان وہ ہے جو خدا کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے ، اور ناکام وہ ہے جو وہاں ناکام ہو۔                 عقائد کے اِس مجمو عے پر جن لوگوں کو یقین نہ ہو وہ قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے، کیونکہ ان باتوں کا انکار تو درکنار، اگر کسی کے دل میں ان کی طرف سے شک اور تذبذب بھی ہو، تو وہ اس راستہ پر نہیں چل سکتا جو انسانی زندگی کے لیے قرآن نے تجویز کیا ہے۔

Al-Baqarah 2:4 — Translation & Tafsir | Read Maududi