Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:36

Verse 36 of 286

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ ۪ وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۟

ترجمہ

آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی تر غیب دیکر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹایا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا، جس میں وہ تھے۔ہم نے حکم دیا کہ ”اب تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ،تم ایک دوسرے کے دُشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔“

English translation

But Satan caused both of them to deflect from obeying Our command by tempting them to the tree and brought them out of the state they were in, and We said: “Get down all of you; henceforth, each of you is an enemy of the other, and on earth you shall have your abode and your livelihood for an appointed time.”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 50

    یعنی انسان کا دشمن شیطان، اور شیطان کا دشمن انسان ۔ شیطان کا دشمن انسان ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ اسے اللہ کی فرماں برداری کے راستے سے ہٹانے اور تباہی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ رہا انسان کا دشمن شیطان ہونا، تو فی الواقع انسانیت  تو اس سے دُشمنی  ہی کی مقتضی ہے، مگر خواہشاتِ نفس کے لیے جو ترغیبات وہ پیش کرتا ہے ، ان سے دھوکا کھا کر آدمی اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اس طرح کی دوستی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقتًہ دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی ، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک دُشمن دُوسرے دُشمن سے شکست کھا گیا اور اس کے جال میں پھنس گیا۔

Al-Baqarah 2:36 — Translation & Tafsir | Read Maududi