Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:29

Verse 29 of 286

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَهُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۟۠

ترجمہ

وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے۔اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

English translation

It is He Who created for you all that is on earth and then turned above and fashioned it into seven heavens. He knows all things.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 34

    سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے ، اس کا تعیّن مشکل ہے۔ انسان ہر زمانے میں آسمان، یا با لفاظِ دیگر ماورائے زمین کے متعلق اپنے مشاہدات یا قیاسات کے مطابق مختلف تصوّرات قائم کرتا رہا ہے ، جو برابر بدلتے رہے ہیں۔ لہٰذا اُن میں سے کسی تصوّر کو بنیاد قرار دے کر قرآن کے ان الفاظ کا مفہُوم متعین کرنا صحیح نہ ہوگا۔ بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماوراء جس قدر کائنات ہے ، اسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے، یا یہ کہ زمین اس کائنات کے جس حلقہ میں واقع ہے، وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے۔

  2. 35

    اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر مُتنبّہ فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ تم اس خدا کے مقابلے میں کفر و بغاوت کا رویّہ اختیار کرنے کی جُراٴت کیسے کرتے ہو جو تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے، جس سے تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی۔ دوسرے یہ کہ جو خدا تمام حقائق کا عِلم رکھتا ہے، جو درحقیقت علم کا سرچشمہ ہے، اس سے منہ موڑ کر بجز اس کے کہ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکو اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ جب اس کے سوا علم کا اور کوئی منبع ہی نہیں ہے ، جب اس کے سوا اور کہیں سے وہ روشنی نہیں مل سکتی جس میں تم اپنی زندگی کا راستہ صاف دیکھ سکو، تو آخر اُس سے رُوگردانی کرنے میں کیا فائدہ تم نے دیکھا ہے؟

Al-Baqarah 2:29 — Translation & Tafsir | Read Maududi