Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:285

Verse 285 of 286

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۫ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؗۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ۟

ترجمہ

رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔“

English translation

The Messenger believes, and so do the believers, in the guidance sent down upon him from his Lord: each of them believes in Allah, and in His angels, and in His Books, and in His Messengers. They say: “We make no distinction between any of His Messengers. We hear and obey. Our Lord! Grant us Your forgiveness; to You we are destined to return.”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 337

    اس آیت میں تفصیلات سے قطع نظر کر کے اسلام کے عقائد اور اسلامی طرزِ عمل کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے : اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اور اس کی کتابوں کو ماننا۔ اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کرنا بغیر اس کے کہ ان کے درمیان فرق کیا جائے ( یعنی کسی کو مانا جائے  اور کسی کو نہ مانا جائے)۔ اور اس امر کو تسلیم کرنا کہ آخر کار ہمیں اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ اِن عقائد کو قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان کے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم پہنچے، اُسے وہ بسر و چشم قبول کرے، اس کی اطاعت کرے، اور اپنے حسنِ عمل پر غرّہ نہ کرے، بلکہ اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا رہے۔

Al-Baqarah 2:285 — Translation & Tafsir | Read Maududi