Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:282

Verse 282 of 286

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاكْتُبُوْهُ ؕ وَلْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۪ وَلَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ ۚ وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْـًٔا ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ ؕ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰی ؕ وَلَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ؕ وَلَا تَسْـَٔمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤی اَجَلِهٖ ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰۤی اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا ؕ وَاَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ۪ وَلَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِیْدٌ ؕ۬ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌ بِكُمْ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ وَیُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۟

ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائےہو، جب کسی مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین کرو ، تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائےجس پر حق آتا ہے(یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ ،اپنے ربّ سے ڈرنا چاہیےکہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ، یا املا نہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اُسے یاد دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔ گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تسا ہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے۔ ایسا کروگے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے

English translation

Believers! Whenever you contract a debt from one another for a known term, commit it to writing. Let a scribe write it down between you justly, and the scribe may not refuse to write it down according to what Allah has taught him; so let him write, and let the debtor dictate; and let him fear Allah, his Lord, and curtail no part of it. If the debtor be feebleminded, weak, or incapable of dictating, let his guardian dictate equitably, and call upon two of your men as witnesses; but if two men are not there, then let there be one man and two women as witnesses from among those acceptable to you so that if one of the two women should fail to remember, the other might remind her. Let not the witnesses refuse when they are summoned (to give evidence). Do not show slackness in writing down the transaction, whether small or large, along with the term of its payment. That is fairest in the sight of Allah; it is best for testimony and is more likely to exclude all doubts. If it be a matter of buying and selling on the spot, it is not blameworthy if you do not write it down; but do take witnesses when you settle commercial transactions with one another. And the scribe or the witness may be done no harm. It will be sinful if you do so. Beware of the wrath of Allah. He teaches you the Right Way and has full knowledge of everything.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 325

    اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ قرض کے معاملے میں مدّت کی تعیین ہونی چاہیے۔

  2. 326

    عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بے اعتمادی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے ۔ لیکن اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قرار دادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرا لینی چاہیے تا کہ لوگوں کے درمیان معاملات صاف رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیں ، جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں، مگر ان کی فریاد سُنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دُوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کر دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض  دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔

  3. 327

    یعنی مسلمان مردوں میں سے، اس سے معلوم ہوا کہ جہاں گواہ بنانا اختیاری فعل ہو وہاں مسلمان صرف مسلمانوں ہی کو اپنا گواہ بنائیں۔ البتہ ذمّیوں کے گواہ ذمّی بھی ہو سکتے ہیں۔

  4. 328

    “مطلب یہ ہے کہ ہر کس و ناکس گواہ ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے ، بلکہ ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جائے جو اپنے اخلاق و دیانت کے لحاظ سے بالعموم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔

  5. 329

    مطلب یہ ہے کہ اگرچہ روز مرّہ کی خرید و فروخت میں بھی معاملہٴ بیع کا تحریر میں آجانا بہتر ہے ، جیسا کہ آج کل کیش میمو لکھنے کا طریقہ رائج ہے، تاہم ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔ اِسی طرح ہمسایہ تاجر ایک دُوسرے سے رات دن جو لین دین کرتے رہتے ہیں ، اس کو بھی اگر تحریر میں نہ لایا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

  6. 330

    )اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو دستاویز لکھنے یا اس پر گواہ بننے کے لیے مجبُور نہ کیا جائے، اور یہ بھی کہ کوئی فریق کا تب یا گواہ  کو اس بنا پر نہ ستائے کہ وہ اس کے مفاد کے خلاف صحیح شہادت دیتا ہے۔

Al-Baqarah 2:282 — Translation & Tafsir | Read Maududi