Al-Baqarah 2:279
Verse 279 of 286
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ۟
ترجمہ
لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑ دو)تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے
English translation
But if you fail to do so, then be warned of war from Allah and His Messenger. If you repent even now, you have the right of the return of your capital; neither will you do wrong nor will you be wronged.
تفہیم القرآن — حواشی
- 323
یہ آیت فتحِ مکّہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اِس سلسلہ ٴ کلام میں داخل کر دی گئی ۔ اس سے پہلے اگرچہ سُود ایک ناپسندیدہ چیز سمجھا جاتا تھا مگر قانوناً اسے بند نہیں کیا گیا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سُودی کاروبار ایک فوجداری جُرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سُود کھاتے تھے ، اُن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عُمّال کے ذریعے سے آگاہ فرمادیا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے، تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ نَجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکعمت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی، تو معاہدے میں یہ تصریح کر دی گئی کہ اگر تم سُودی کاروبار کرو گے، تو معاہدہ فسخ ہو جائے گا اور ہمارے اور تمہارے درمیان حالتِ جنگ قائم ہو جائے گی۔ آیت کے آخری الفاظ کی بنا پر ابن عباس ، حسن بصری، ابن سیرین اور ربیع بن انس کی رائے یہ ہے کہ جو شخص دارالا سلام میں سُود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے اور اگر باز نہ آئے، تو اسے قتل کر دیا جائے۔ دُوسرے فقہا کی رائے میں ایسے شخص کو قید کر دینا کافی ہے۔ جب تک وہ سُود خواری چھوڑ دینے کا عہد نہ کرے، اسے نہ چھوڑا جائے۔
