Al-Baqarah 2:260
Verse 260 of 286
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ؕ قَالَ بَلٰی وَلٰكِنْ لِّیَطْمَىِٕنَّ قَلْبِیْ ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟۠
ترجمہ
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ”میرے مالک ! مجھے دکھا دے تُو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: ”کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟”اس نے عرض کیا”ایمان تو رکھتاہوں ، مگر دل کا اطمینان درکار ہے۔” فرمایا:”اچھا ، تو چار پرندے لے اورا ن کو اپنے سے مانوس کر لے۔ پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے۔ پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ خوب جان لو کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے۔”
English translation
And recall when Abraham said: “My Lord, show me how You give life to the dead,” Allah said: “Why! Do you have no faith?” Abraham replied: “Yes, but in order that my heart be at rest.” He said: “Then take four birds, and tame them to yourself, then put a part of them on every hill, and summon them; they will come to you flying. Know well that Allah is All-Mighty, All-Wise.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 296
یعنی وہ اطمینان ، جو مشاہدہٴ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
- 297
اس واقعے اور اُوپر کے واقعے کی بعض لوگوں نے عجیب عجیب تاویلیں کی ہیں لیکن انبیا علیہم السّلام کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہے، اُسے اگر اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے، تو کسی کھینچ تان کی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔ عام اہلِ ایمان کو اِس زندگی میں جو خدمت انجام دینی ہے، اس کے لیے تو محض ایمان بالغیب (بے دیکھے ماننا) کافی ہے۔ لیکن انبیا کو جو خدمت اللہ نے سپُرد کی تھی اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ حقیقتیں دیکھ لیتے جن پر ایمان لانے کی دعوت انہیں دُنیا کو دینی تھی۔ اُن کو دُنیا سے پُورے زور کے ساتھ یہ کہنا تھا کہ تم لوگ تو قیاسات دَوڑاتے ہو، مگر ہم آنکھوں دیکھی بات کہہ رہےہیں۔ تمہارے پاس گمان ہے اور ہمارے پاس علم ہے، تم اندھے ہو اور ہم بینا ہیں۔ اِسی لیے انبیا کے سامنے فرشتے عیاناً آئے ہیں، ان کو آسمان و زمین کے نظامِ حکومت(ملکوت)کا مشاہدہ کرایا گیا ہے، ان کو جنت اور دوزخ آنکھوں سے دکھائی گئی ہے، اور بعث بعد الموت کا ان ے سامنے مظاہرہ کر کے دکھا یا گیا ہے۔ ایمان بالغیب کی منزل سے یہ حضرات منصب نبوّت پر مامو ر ہونے سے پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔ نبی ہونے کےبعد ان کو ایمان بالشہادۃ کی نعمت دی جاتی ہے اور یہ نعمت اُنہی کے ساتھ مخصُوص ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، صفحہ نمبر 33۰ و 334)۔
