Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:248

Verse 248 of 286

وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟۠

ترجمہ

اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ”خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا، جس میں آلِ موسیٰ ؑ اور آلِ ہارونؑ کے چھوڑے ہوئے تبّرکات ہیں، اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر تم مومن ہو، تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے

English translation

And their Prophet said to them: “The Sign of his dominion is that in his reign the Ark, wherein is inner peace for you, will be brought back to you, and the sacred relics left behind by the house of Moses and the house of Aaron borne by angels. Truly in that is a Sign for you, if indeed you are people of faith.”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 270

    بائیبل کا بیان اس باب میں قرآن سے کسی حد تک مختلف ہے ۔ تاہم اس سے اصل واقع کی تفصیلات پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صندوق ، جسے بنی اسرائیل اصطلاحاً ” عہد کا صندوق“ کہتے تھے ، ایک لڑائی کے موقع پر فلسطینی مشرکین نے بنی اسرائیل سے چھین لیا تھا، لیکن یہ مشرکین کے جس شہر اور جس بستی میں رکھا گیا ، وہاں وبائیں پھُوٹ پڑیں۔ آخر کار اُنہوں نے خوف کے مارے اُسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر گاڑی کو ہانک دیا ۔ غالباً اِسی معاملے کی طرف قرآن اِن الفاظ میں اشارہ کرتا ہے کہ اُس وقت وہ صندوق فرشتوں کی حفاظت میں تھا، کیونکہ وہ گاڑی بغیر کسی گاڑی بان کے ہانک دی گئی تھی اور اللہ کے حکم سے یہ فرشتوں ہی کا کام تھا کہ وہ اُسے چلا کر بنی اسرائیل کی طرف لے آئے ۔ رہا یہ ارشاد کہ ”اِس صندوق میں تمہارے لیے سکونِ قلب کا سامان ہے“، تو بائیبل کے بیان سے اس کی حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل اس کو بڑا متبرک اور اپنے لیے فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے۔ جب وہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ، تو پُوری قوم کی ہمّت ٹُوٹ گئی اور ہر اسرائیلی یہ خیال کرنے لگا کہ خدا کی رحمت ہم سے پھِر گئی ہے اور اب ہمارے بُرے دن آگئے ہیں۔ پس اُس صندوق کا واپس آنا اس قوم کے بڑی تقویت ِ قلب کا موجب تھا اور یہ ایک ایسا ذریعہ تھا ، جس سے اُن کی ٹُوٹی ہوئی ہمّتیں پھِر بن سکتی تھیں۔ ”آلِ موسی ٰ ؑ اور آلِ ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرّکات “ جو اس صندوق میں رکھے ہوئے تھے ، ان سے مُراد پتھر کی وہ تختیاں ہیں ، جو طُورِ سینا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو دی تھیں۔ اس کےعلاوہ تورات کو وہ اصل نسخہ بھی اُس میں تھا، جسے حضرت موسیٰ ؑ نے خود لکھوا کر بنی لاوی کے سپرد کیا تھا ۔ نیز ایک بوتل میں مَن بھی بھر کر اُس میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کے اُس احسان کو یاد کریں، جو صحرا میں اُس نے اُن کے باپ دادا پر کیا تھا۔ اور غالباً حضرت موسیٰ ؑ کا وہ عصا بھی اس کے اندر تھا، جو خدا کے عظیم الشان معجزات کا مظہر بنا تھا۔

Al-Baqarah 2:248 — Translation & Tafsir | Read Maududi