Al-Baqarah 2:243
Verse 243 of 286
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَهُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ ۟
ترجمہ
تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑکر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ۔ پھر اس نےا ن کو دوبارہ زندگی بخشی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
English translation
(O Messenger), have you thought of those who went forth from their homes for fear of death even though they were in their thousands? Allah said to them: “Die!” Then He restored them to life. Indeed Allah is Bounteous to mankind; but most people do not give thanks in return.
تفہیم القرآن — حواشی
- 265
یہاں سے ایک دُوسرا سلسلہ ء تقریر شروع ہوتا ہے، جس میں مسلمانوں کو راہِ خدا میں جہاد اور مالی قربانیاں کرنے پر اُبھارا گیا ہے اور انھیں اُن کمزوریوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ،جن کی وجہ سے آخر کار بنی اسرائیل زوال و انحطاط سے دوچار ہوئے۔ اس مقام کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مسلمان اس وقت مکّے سے نکالے جا چکے تھے، سال ڈیڑھ سال سے مدینے میں پناہ گزیں تھے، اور کفّار کے مظالم سے تنگ آکر خود بار بار مطالبہ کر چکے تھے کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے۔ مگر جب اُنھیں لڑائی کا حکم دے دیا گیا ، تو اب ان میں بعض لوگ کَسمَسا رہے تھے، جیسا کہ چھبّیسویں رکوع کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔ اِس لیے یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے دو اہم واقعات سے اُنھیں عبرت دلائی گئی ہے۔
- 266
یہ اشارہ بنی اسرائیل کے واقعہ ء خروج کی طرف ہے۔ سُورہ مائدہ کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں مصر سے نکلے تھے۔ دشت و بیاباں میں بے خانماں پھر رہے تھے۔ خود ایک ٹھکانے کے لیے بے تاب تھے۔ مگر جب اللہ کے ایما سے حضرت موسیٰ ؑ نے ان کو حکم دیا کہ ظالم کَنعانیوں کو ارضِ فلسطین سے نکال دو اور اس علاقے کو فتح کر لو، تو انہوں نے بُزدلی دِکھائی اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ آخر کا ر اللہ نے انھیں چالیس سال تک زمین میں سرگرداں پھرنے کے لیے چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کی ایک نسل ختم ہو گئی اور دُوسری نسل صحرا ؤ ں کی گود میں پل کر اُٹھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے اُنھیں کنعانیوں پر غلبہ عطا کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی معاملے کو موت اور دوبارہ زندگی کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
