Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:238

Verse 238 of 286

حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی ۗ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ ۟

ترجمہ

اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسِن صلوٰة کی جامع ہو۔ اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتےہیں

English translation

Be watchful over the Prayers, and over praying with the utmost excellence, and stand before Allah as would utterly obedient servants.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 262

    قوانینِ تمدّن و معاشرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس تقریر کو نماز کی تاکید پر ختم فرماتا ہے ، کیونکہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر خدا کا خوف ، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکامِ الہٰی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اُسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔ یہ چیز نہ ہو تو انسان کبھی الہٰی قوانین کی پابندی پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا اور آخر کار اسی نافرمانی کی رَو میں بہہ نکلتا ہے جس پر یہُودی بہہ نکلے۔

  2. 263

    “اصل میں لفظ” صَلوٰۃ الْوُسْطیٰ“استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد بعض مفسّرین نے صبح کی نماز لی ہے، بعض  نے ظہر، بعض نے مغرب  اور بعض نے عشا۔ لیکن ان میں سے کوئی قول بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ صرف اہلِ تاویل کا استنباط ہے۔ سب سے زیادہ اقوال نمازِ عصر کے حق میں ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی نماز کو صلوٰۃ وسطیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن جس واقعہ سے یہ نتیجہ نکا لا جاتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جنگِ احزاب کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کے حملے نے اس درجہ مشغول رکھا کہ سُورج ڈوبنے کو آگیا اور آپؐ  نمازِ عصر نہ پڑھ سکے۔ اُس وقت آپؐ  نے فرمایاکہ”خدا ان لوگوں کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے، انہوں نے ہماری صلوٰۃ وسطیٰ فوت کرا دی۔“ اِس سے یہ سمجھا گیا کہ آپ ؐ نے نمازِ عصر کو صلوٰۃِ وسطیٰ فرمایا ہے، حالانکہ اس کا یہ مطلب ہمارے نزدیک زیادہ قرینِ صواب ہے کہ اس مشغولیت نے اعلیٰ درجے کی نماز ہم سے فوت کرادی، ناوقت پڑھنی پڑے گی، جلدی جلدی ادا کرنی ہوگی، خشوع و خضوع اور اطمینان و سکون کے ساتھ نہ پڑھ سکیں گے۔ وسطیٰ کے معنی بیچ والی چیز کے بھی ہیں اور ایسی چیز کے بھی جو اعلیٰ اور اشرف ہو۔ صلوٰۃِ وسطیٰ سے مراد بیچ کی نماز بھی ہو سکتی ہے اور ایسی نماز بھی جو صحیح وقت پر پُورے خشوع اور توجّہ اِلی اللہ کے ساتھ پڑھی جائے، اور جس میں نماز کی تمام خوبیاں موجود ہوں۔ بعد کا فقرہ کہ”اللہ کے آگے فرمانبردار بندوں کی طرح کھڑے ہو“، خود اس کی تفسیر کر رہا ہے۔

Al-Baqarah 2:238 — Translation & Tafsir | Read Maududi