Al-Baqarah 2:233
Verse 233 of 286
وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ؕ وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ ۗ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا ؕ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟
ترجمہ
جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدّت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچّوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔ اس صورت میں بچّے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر با ر نہ ڈالنا چاہیے، نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچّہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچّہ اس کا ہے۔۔۔۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچّے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پربھی ہے۔۔۔۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کردو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے
English translation
If they (i.e. the fathers) wish that the period of suckling for their children be completed, mothers may suckle their children for two whole years. (In such a case) it is incumbent upon him who has begotten the child to provide them (i.e. divorced women) their sustenance and clothing in a fair manner. But none shall be burdened with more than he is able to bear; neither shall a mother suffer because of her child nor shall the father be made to suffer because he has begotten him. The same duty towards the suckling mother rests upon the heir as upon him (i.e. the father). And if both (the parents) decide, by mutual consent and consultation, to wean the child, there is no blame on them; if you decide to have other women suckle your children there is no blame upon you, provided you hand over its compensation in a fair manner. Fear Allah and know well that Allah sees all that you do.
تفہیم القرآن — حواشی
- 257
یہ اُس صُورت کا حکم ہے ، جبکہ زوجین ایک دُوسرے سے علیٰحدہ ہو چکے ہوں، خواہ طلاق کے ذریعے یا خُلع یا فسخ اور تفریق کے ذریعے سے ، اور عورت کی گود میں دُودھ پیتا بچّہ ہو۔
- 258
یعنی اگر باپ مر جائے ، تو جو اس کی جگہ بچہ کا ولی ہو ، اُسے یہ حق ادا کرنا ہوگا۔
