Al-Baqarah 2:232
Verse 232 of 286
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰی لَكُمْ وَاَطْهَرُ ؕ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟
ترجمہ
جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدّت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے با ہم مناکحت پر راضی ہوں۔تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
English translation
When you divorce women and they have completed their waiting term do not hinder them from marrying other men if they have agreed to this in a fair manner. That is an admonition to everyone of you who believes in Allah and the Last Day; that is a cleaner and purer way for you. For Allah knows whereas you do not know.
تفہیم القرآن — حواشی
- 256
یعنی اگر کسی عورت کو اس شوہر نے طلاق دے دی ہو اور زمانہء عِدّت کے اندر اس سے رجُوع نہ کیا ہو، پھر عدّت گزر جانے کے بعد وہ دونوں آپس میں دوبارہ نکاح پر راضی ہوں ، تو عورت کے رشتے داروں کو اس میں مانع نہ ہونا چاہیے۔ نیز اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہو اور عورت عدّت کے بعد اس سے آزاد ہو کر کہیں دُوسری جگہ اپنا نکاح کرنا چاہتی ہو تو اُس سابق شوہر کو ایسی کمینہ حرکت نہ کرنی چاہیے کہ اس کے نکاح میں مانع ہو اور یہ کوشش کرتا پھرے کہ جس عورت کو اس نے چھوڑا ہے، اُسے کوئی نکاح میں لانا قبول نہ کرے۔
