Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:222

Verse 222 of 286

وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ ؕ قُلْ هُوَ اَذًی ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ ۙ وَلَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰی یَطْهُرْنَ ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ ۟

ترجمہ

پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں

English translation

They ask you about menstruation. Say: “It is a state of impurity; so keep away from women in the state of menstruation, and do not approach them until they are cleansed. And when they are cleansed, then come to them as Allah has commanded you.” Truly, Allah loves those who abstain from evil and keep themselves pure.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 238

    اصل میں اَذ یٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے معنی گندگی کے بھی ہیں اور بیماری کے بھی۔ حیض صرف ایک گندگی ہی نہیں ہے ، بلکہ طبی حیثیت سے  وہ ایک ایسی حالت ہے ، جس میں عورت تندرستی کی بہ نسبت بیماری سے قریب تر  ہوتی ہے۔

  2. 239

    قرآن مجید اس قسم کے معاملات کو استعاروں اور کنایوں میں بیان کرتا ہے ۔ اس لیے اس نے ”الگ رہو“ اور ”قریب نہ جا ؤ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک فرش پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانا کھانے سے بھی احتراز کیا جائے اور  اسے بالکل اچھُوت بنا کر رکھ دیا جائے، جیسا کہ یہُود اور ہنُود اور بعض دُوسری قوموں کا دستور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی جو توضیح فرما دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حالت میں صرف فعلِ مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے، باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جائیں۔

  3. 240

    یہاں حکم سے مراد حکم ِ شرعی نہیں ہے، بلکہ وہ فطری حکم مراد ہے، جو انسان اور حیوان ، سب کی جبلّت میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور جس سے ہر متنفس بالطبع واقف ہے۔

Al-Baqarah 2:222 — Translation & Tafsir | Read Maududi