Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:220

Verse 220 of 286

فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ؕ وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰی ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ ؕ وَاِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ ؕ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟

ترجمہ

پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو : جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے

English translation

both in regard to this world and the Next. They question you concerning orphans. Say: “To deal with them in the way which is to their good, that is best. And if you intermix (your expenses and living) with them, (there is no harm for) they are your brothers.” Allah knows the mischievous from the righteous, and had Allah willed, He would indeed have imposed on you exacting conditions; but He is All-Powerful, Most Wise.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 236

    اس آیت کے نزول سے پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آچکے تھے اور یہاں تک فرما دیا گیا تھا کہ ”یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو“۔ اور یہ کہ ” جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔“ ان شدید احکام کی بنا پر وہ لوگ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے، اس قدر خوف زدہ ہوگئے تھے کہ انہوں نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کر دیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصّہ ان کے مال میں نہ مِل جائے۔ اسی لیے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح صُورت کیا ہے۔

Al-Baqarah 2:220 — Translation & Tafsir | Read Maududi