Al-Baqarah 2:20
Verse 20 of 286
یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ وَاِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟۠
ترجمہ
چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی۔جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسُوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دُور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہچاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سَلب کر لیتا،یقینًا وہ ہر چیز پر قادر ہے
English translation
It is as if the lightning would snatch their sight; whenever it gleams a while for them they walk a little, and when darkness covers them they halt. If Allah so willed, He could indeed take away their hearing and their sight. Surely Allah is All-Powerful.
تفہیم القرآن — حواشی
- 19
پہلی مثال اُن منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے۔ اور یہ دُوسری مثال اُن کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعفِ ایمان میں مبتلا تھے، کچھ حق کے قائل بھی تھے، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مُراد مشکلات و مصائب کا وہ، ہُجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریکِ اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آرہا تھا۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تو یہ چل پڑتے ہیں ، اور جب مشکلات کے دَلْ بادَل چھانے لگتے ہیں، یا ایسے احکام دیے جاتے ہیں جن سے ان کے خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصّباتِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے ، تو ٹھٹک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
- 20
یعنی جس طرح پہلی قسم کے منافقین کا نورِ بصیرت اس نے بالکل سَلب کر لیا، اسی طرح اللہ ان کو بھی حق کے لیے اندھا بہرا بنا سکتا تھا۔ مگر اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ جو کسی حد تک دیکھنا اور سُننا چاہتا ہو، اسے اُتنا بھی نہ دیکھنے سُننے دے۔ جس قدر حق دیکھنے اور حق سُننے کے لیے یہ تیار تھے، اسی قدر سماعت و بصارت اللہ نے ان کے پاس رہنے دی۔
