Al-Baqarah 2:197
Verse 197 of 286
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ؔؕ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ؗ وَاتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ ۟
ترجمہ
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔
English translation
The months of Hajj are well known. Whoever intends to perform Pilgrimage in these months shall abstain from sensual indulgence, wicked conduct and quarrelling; and whatever good you do, Allah knows it. Take your provisions for the Pilgrimage; but, in truth, the best provision is piety. Men of understanding, beware of disobeying Me.
تفہیم القرآن — حواشی
- 214
احرام کی حالت میں میاں اور بیوی کے درمیان نہ صرف تعلقِ زن و شو ممنوع ہے، بلکہ اُن کے درمیان کوئی ایسی گفتگو بھی نہ ہونی چاہیے ، جو رغبتِ شہوانی پر مبنی ہو۔
- 215
تمام معصیت کے افعال اگرچہ بجائے خود ناجائز ہیں، لیکن احرام کی حالت میں ان کا گناہ بہت سخت ہے۔
- 216
حتیٰ کہ خادم کو ڈانٹنا تک جائز نہیں۔
- 217
جاہلیّت کے زمانے میں حج ے لیے زادِ راہ ساتھ لے کر نکلنے کو ایک دُنیا دارانہ فعل سمجھا جاتا تھا اور ایک مذہبی آدمی سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ خدا کے گھر کی طرف دُنیا کا سامان لیے بغیر جائے گا۔ اس آیت میں اُن کے اِس غلط خیال کی تردید کی گئی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ زادِ راہ نہ لینا کوئی خوبی نہیں ہے۔ اصل خوبی خدا کا خوف اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے اجتناب اور زندگی کا پاکیزہ ہونا ہے۔ جو مسافر اپنے اخلاق درست نہیں رکھتا اور خدا سے بے خوف ہو کر بُرے اعمال کر تا ہے، وہ اگر زادِ راہ ساتھ نہ لے کر محض ظاہر میں فقیری کی نمائش کرتا ہے، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں وہ ذلیل ہو گا اور اپنے اُس مذہبی کام کی بھی توہین کرے گا، جس کے لیے وہ سفر کر رہا ہے۔ لیکن اگر اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور اس کے اخلاق درست ہوں، تو خدا کے ہاں بھی اس کی عزّت ہوگی اور خلق بھی اس کا احترام کرے گی، چاہے اس کا توشہ دان کھانے سے بھرا ہوا ہو۔
