Al-Baqarah 2:196
Verse 196 of 286
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ ۚ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًی مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ ۥ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟۠
ترجمہ
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنےسر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر منڈوالے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جا ئے(اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے ، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
English translation
Complete Hajj and 'Umrah for Allah. And if you are prevented from doing so, then make the offering which is available to you, and do not shave your heads until the offering reaches its appointed place.If any of you should have to shave your head before that because of illness, or injury to the head, then you should make redemption by fasting, or almsgiving, or ritual sacrifice. And when you are secure, then he who avails of 'Umrah before the time of Hajj shall give the offering he can afford; and if he cannot afford the offering, he shall fast for three days during Hajj and for seven days after he returns home; that is, ten days in all. This privilege is for those whose families do not live near the Holy Mosque. Guard against violating these ordinances of Allah and be mindful that Allah is severe in chastisement.
تفہیم القرآن — حواشی
- 209
یعنی اگر راستے میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے ، جس کی وجہ سے آگے جانا غیر ممکن ہو اور مجبوراً رُک جانا پڑے، تو اُونٹ، گائے، بکری میں سے جو جانور بھی میسّر ہو، اللہ کے لیے قربان کر دو۔
- 210
اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد حرم ہے، یعنی اگر آدمی راستہ میں رُک جانے پر مجبُور ہو، تو اپنی قربانی کا جانور یا اس کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کی طرف سے حُدودِ حرم میں قربانی کی جائے۔ اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک جہاں آدمی گھِر گیا ہو، وہیں قربانی کردینا مراد ہے۔ سر مونڈنے سے مراد حجامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک قربانی نہ کر لو حجامت نہ کرا ؤ ۔
- 211
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں تین دن کے روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔
- 212
یعنی وہ سبب دُور ہو جائے ، جس کی وجہ سے مجبُوراً تمہیں راستے میں رُک جانا پڑا تھا۔ چونکہ اُس زمانے میں حج کا راستہ بند ہونے اور حاجیوں کے رُک جانے کی وجہ زیادہ تر دشمنِ اسلام قبیلوں کی مزاحمت ہی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُوپر کی آیت میں ”گھِر جانے“ اور اس کے بالمقابل یہاں”امن نصیب ہوجانے“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ لیکن جس طرح”گھِر جانے“ کے مفہوم میں دشمن کی مزاحمت کے علاوہ دُوسرے تمام موانع شامل ہیں، اسی طرح ”امن نصیب ہو جانے“ کا مفہُوم بھی ہر مانع و مزاحم چیز کے دُور ہو جانے پر حاوی ہے۔
- 213
عرب جاہلیّت میں یہ خیال کیا جا تا تھا کہ ایک ہی سفر میں حج اور عُمرہ دونوں ادا کرنا گناہِ عظیم ہے۔ ان کی خود ساختہ شریعت میں عُمرے کے لیے الگ اور حج کےلیے الگ سفر کرنا ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قید کو اُڑا دیا اور باہر سے آنے والوں کے ساتھ یہ رعایت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں عُمرہ اور حج دونوں کر لیں۔ البتہ جو لوگ مکّہ کے آس پاس میقاتوں کی حُدود کے اندر رہتے ہوں انھیں اس رعایت سے مستثنیٰ کر دیا کیونکہ ان کے لیے عُمرہ کا سفر الگ اور حج کا سفر الگ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ حج کا زمانہ آنے تک عُمرے کا فائدہ اُٹھانے سے مُراد یہ ہے کہ آدمی عُمرہ کر کے اِحرام کھول لے اور اُن پابندیوں سے آزاد ہو جائے ، جو احرام کی حالت میں لگائی گئی ہیں۔ پھر جب حج کے دن آئیں، تو ازسرِ نو احرام باندھ لے۔
